vote cast polling - پنجاب کا آئندہ بلدیاتی نظام کیسا ہوگا؟

پنجاب کا آئندہ بلدیاتی نظام سے متعلق وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی نے سفارشات مرتب کر لیں، کمیٹی کی ‏سفارشات منظوری کیلئےآئندہ ہفتےوزیراعظم کوپیش کی جائیں گینئے بلدیاتی نظام کے تحت پنجاب میں 11میٹروپولٹین ہوں گی۔
سیالکوٹ کوعالمی حیثیت کےپیش نظر ‏میٹروپولٹین کا درجہ دیا جا رہا ہے، گجرات کوبھی میٹروپولٹین کا درجہ دیا گیا ہے۔
سفارشات کے مطابق 9 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر میٹروپولٹین ہوں گی، نئےبلدیاتی نظام کےتحت پنجاب میں 25ضلع ‏کونسل ہوں گے۔
ضلع ناظم، میٹروپولٹین کے میئر کا انتخاب براہ راست جماعتی بنیاد ہوگا۔
نیبرہوڈ کونسل ،ویلیج کونسل اور تحصیل کونسل کا نظام ہوگا۔
نیبرہوڈ کونسل اورویلیج کونسل کاانتخاب غیرجماعتی ‏بنیادوں پر ہوگا۔
ویلیج کونسل10سے20ہزار آبادی پر مشتمل ہوگی، جب کہ نیبر ہیڈکونسل15سے20ہزار آباد ی پر ‏مشتمل ہو گی۔
ویلیج کونسل کے ساتھ پنچائت کونسل کانظام قائم کرنےکی بھی تجویز ہے۔ پنجائت کونسل کےارکان کوویلیج ‏کونسل کا چیئرمین نامزد کرے گا۔ گاؤں کی برادریوں کی اہم شخصیات کی پنچائت کونسل میں نمائندگی ہوگی۔
‏پنچائت کونسل صفائی، اسٹریٹ لائٹس، اسکول، چھوٹےتنازعات کودیکھےگی۔
پنچاب کونسل کومعمولی نوعیت کے ‏ٹیکس لگانے کا اختیاربھی ہوگا۔
نیبرہڈکونسل اوربویلیج کونسل میں بزرگ شہریوں کیلئےایک سیٹ رکھی جائےگی۔
لاہور میٹروپولٹین کارپوریشن ‏میں نیبرہڈکونسل کی بجائےٹاؤن ہوں گے، اور ہر ٹاؤن کے میئرز کا انتخاب بھی براہ راست ہوگا۔