bank al islami  - بینک اسلامی نے امریکی عدالت میں سائبر ہیکر کے خلاف کیس جیت لیا

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی بینک نے امریکی عدالت میں سائبر ہیکر کے خلاف دائر مقدمہ جیت کر نہ صرف بینکنگ سیکٹر بلکہ پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

امریکی عدالت نے کینیڈین نژاد سائبر ہیکر کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اسے 11 سال 6 ماہ قید اور دنیا بھر کے مختلف بینکوں سے لوٹی ہوئی 30 ملین ڈالر کی رقم واپس اد اکرنے کی سزا سنائی . اس واردات میں زیادہ تر نارتھ کوریا سے تعلق رکھنے والے ہیکرز کے ایک گروپ نے کینیڈین نژاد شخص کی سربراہی میں دنیا بھر کے مختلف بینکوں کا ڈیٹا چوری کر کے بڑے پیمانے پر رقوم نکال لی تھیں۔

بینک اسلامی بھی ان ہیکرز کی جانب سے دنیا بھر میں کیے جانے والے سائبر حملوں کا شکار ہوا تھا، اور اسے تقریباََ 5.5 ملین امریکی ڈالرز کا خطیر مالی نقصان اٹھانا پڑا، بعد ازاں، امریکا میں مذکورہ ہیکرز کی گرفتاری عمل میں آئی تو بینک اسلامی نے امریکی عدالت میں ان ہیکرز کے خلاف سائبر ہیکنگ کے ذریعے بینک کا ڈیٹا چوری کر کے رقوم لوٹنے کے حوالے سے مقدمہ دائر کیا۔بینک کی جانب سے مقدمے کی پیروی اور تمام تر ثبوت و شواہد پیش کیے جانے پر امریکی عدالت نے ان ہیکرز کے سائبر حملوں سے متاثرہ، بینک اسلامی اور دنیا بھر کے دیگر متاثرہ بینکوں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے، ہیکرز کو 11 سال 6 ماہ کی سزا اور دنیا بھر کے مختلف بینکوں سے 30 ملین ڈالر کی لوٹی ہوئی رقوم کی واپس ادائیگی کا حکم صادر کیا۔

بینک اسلامی کو بھی اس کی دعویٰ شدہ 5.5 ملین ڈالر کی رقم فراہم کی جائے گی۔ترجمان کے مطابق پاکستان میں موجود کسی بینک کی جانب سے امریکی عدالت میں مقدمہ کیے جانے اور اس کی مسلسل پیروی کے ذریعے جیتنے کے حوالے سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جس نے پورے بینکنگ سیکٹر کا سر فخر سے بلند کر کے ایک مثال قائم کر دی ہے۔