Afghanistan president ashraf ghani - اشرف غنی ٹوئٹر پر نمودار ہوگئے، عوام سے معافی مانگ لی

ملک سے فرار اشرف غنی نے طالبان کی حکومت کے بعد ٹوئٹر پر بیان جاری کر دیا۔

بیان میں اشرف غنی نے لکھا کہ 15 اگست کو غیر متوقع طور پر طالبان کے دارالحکومت کابل میں داخلے اور ‏افغانستان چھوڑنےپرافغان عوام کووضاحت دینے کا پابند ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کابل چھوڑنامیری زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا ، میں نےصدارتی محل کی سیکیورٹی ٹیم ‏کےکہنے پر افغانستان چھوڑا ، سیکیورٹی ٹیم نےکہا آپ نہیں نکلے تو سڑکوں پرخون خرابہ ہوگا۔

اشرف غنی نے کہا کہ اپنےلوگوں کو تنہا چھوڑنے کا کبھی کوئی ارادہ نہیں تھا، مجھ پرلاکھوں ڈالرز لے کر بھاگنے کے ‏الزامات بےبنیاد ہیں
کرپشن نےہمارےملک کی جڑیں کھوکھلی کیں ، بحیثیت صدر کرپشن کیخلاف جنگ میری ‏ترجیح تھی۔

اشرف غنی نے اپنے اوپر عائد ہونے والے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی ساکھ کو خراب کرنے کے لیے اس طرح کا بے بنیاد الزام عائد کیا جارہا ہے۔

ریپبلکن اراکینِ کانگریس نے وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کو خط تحریر کیاز جس میں افغان صدر اشرف غنی کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اراکین کانگریس نے اپنے خط میں لکھا کہ ’اشرف غنی 15اگست کو ملک (افغانستان) چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، انہوں نے راہِ فرار اختیار کر کے کابل حکومت کےخاتمے اور طالبان کے داخلےکی راہ ہموار کی‘۔