Rifat Abbas saraiki poet - ملتان کے نامور سرائیکی شاعررفعت عباس کےلئے تمغہ حسن کارکردگی

جشن آزادی کے موقع پرصدر مملکت عارف علوی نے جن 126شخصیات کو سول اعزازات سے نوازا، ان میں ملتان سے تعلق رکھنے والے نامور سرائیکی شاعررفعت عباس بھی شامل ہیں۔

رفعت عباس کو ان کی خدمات پرتمغہ حسن کارکردگی دیاگیاہے۔

رفعت عباس کااصل نام غلام عباس ہے۔وہ 7جولائی 1958 کو ملتان میں پیداہوئے،گورنمنٹ ایمرسن کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے شعبہ تعلیم سے وابستگی اختیارکی، وہ شجاع آباد اورملتان کے مختلف کالجوں میں خدمات انجام دیتے رہے۔
رفعت عباس کو ان کی سرائیکی کافیوں کے حوالے سے غیر معمولی شہرت حاصل ہے۔سرائیکی زبان وادب کے فروغ اورعلاقہ کے حقوق کے لئے ان کے بہت سے اشعار، نظمیں اورکافیاں ضرب المثل کی حیثیت اختیارکرچکی ہیں۔

رفعت عباس نے سرائیکی شاعری کے علاوہ ناول اور حکایات بھی تحریرکیں۔
ان کے شعری مجموعوں میں پڑچھیاں اُتے پُھلَ،بھوندی بھوئیں تے، ایں نارنگی اندر،عشق اللہ سئیں جاگیا اور ناول”لون داجیون گھر“قابل ذکر ہیں۔

اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے رفعت عباس نے کہا کہ میرے لئے اس اعزاز کی یہ اہمیت ہے کہ میں نے اپنی زبان اورشناخت کے لئے جوجدوجہد کی اسے آج تسلیم کر لیا گیا ہے۔

اس اعزاز نے مجھے یہ تقویت دی ہے کہ میں نہ صرف سرائیکی بلکہ اس ملک میں بسنے والے تمام محروم طبقات اوراقوام کے لئے اسی طاقت کے ساتھ بات کرتارہوں گا۔

انہوں نے کہاکہ یہ صرف میراںنہیں میرے تمام دوستوں اور پورے سرائیکی وسیب کا اعزازہے، اورخوشی کے ان لمحات میں جو دوست میرے ساتھ ہیں میں ان سب کا شکرگزارہوں کہ انہوں نے مجھے ہمیشہ حوصلہ بخشا اورطاقت عطاکی۔
میری اصل طاقت میرے قارئین اورمیرے علاقہ کے عوام ہیں ۔