Pakistan post - فیٹف کی شرائط پر عملدرآمد کے لئے محکمہ ڈاک کی بچت سکیمیں قومی بچت مراکز کے سپرد

ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ خالد جاوید نے کہا ہے کہ فیٹف کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے محکمہ ڈاک نے اپنی بچت سکیمیں قومی بچت کے مراکز کے سپرد کردی ہیں، تاہم اس سے ہمارے کھاتہ داروں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا اور نہ ان کے منافع کی شرح کم ہوگی۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے سوموار کے روز جنرل پوسٹ آفس ملتان کے دورے کے موقع پر اے پی پی سے بات چیت کے دوران کیا۔
خالد جاوید نے مزید کہاکہ محکمہ ڈاک اگرچہ بینک نہیں ہے، لیکن اسے اس کے نیٹ ورک کی وجہ سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بہت سے کام سپرد کیے ہوئے تھے۔

ہم وزارت خزانہ اور بینکوں کےلئے رقوم وصول بھی کررہے تھے اور ادائیگیاں بھی کی جارہی تھیں۔

اس کے بعد بہت سی وجوہات کی بنا پرجن میں فیٹف کی شرائط بھی شامل ہیں، اور چونکہ ہمیں سٹیٹ بینک ریگولیٹ نہیں کررہا اس لیے یہ فیصلہ کیاگیا کہ یہ کام حقیقی طورپر جن اداروں کا ہے جن میں وزارت خزانہ اور محکمہ قومی بچت شامل ہے ،انہی کے سپرد کردیا جائے تاکہ فیٹف کی شرائط پرعملدرآمد ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ کھاتے قومی بچت کے حوالے کرنے سے ایک مشکل یہ درپیش ہے کہ جتنا بڑا نیٹ ورک محکمہ ڈاک ہے قومی بچت کا نہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم اس کوشش میں ہے کہ محکمہ قومی بچت کے ساتھ ہمارا کوئی ایسامعاہدہ ہوجائے کہ محکمہ ڈاک کی جو بہت سی شاخیں ہیں وہاں بھی یہ سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب ہماری تمام توجہ ڈاک کی ترسیل پر ہے اورہم اس کوشش میں ہیں کہ کسی ایک صارف کوبھی ہم سے اگرشکایت ہے تو وہ دور کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم لاکھوں پارسل تقسیم کرتے ہیں لیکن ہماری شکایت کی شرح ایک فیصد بھی نہیں۔ ہماری اس کارکردگی کا کوئی اور سرکاری محکمہ مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ہماری سروس ڈلیوری کی شرح 98فیصد ہے لیکن ہمارے نزدیک ایک یا دوفیصد کی کمی بھی بہت زیادہ ہے۔ اس کمی کو دورکرنے کے لیے ہم اپنے دفاتر کی کارکردگی کو بہتر کررہے ہیں جہاں سے ترسیل ہوتی ہے وہاں نظام کومزیدبہتر بنایاجارہاہے۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے صارف کو یہ مکمل اعتماد ہو کہ اس نے ہمیں جو پیکٹ یا پارسل دیا ہے وہ امانت بروقت اورحفاظت کے ساتھ منزل مقصودتک پہنچ جائے گا ۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ایک ایک گلی ،محلے تک پہنچنا محکمہ ڈاک کی ذمہ داری ہے اور ہم روزانہ کی بنیادوں پر یہ دیکھتے ہیں کہ اس نیٹ کو اور کہاں کہاں پھیلانا ہے۔کہیں بزنس ہے یانہیں وہاں محکمہ ڈاک کو ضرور پہنچنا ہے۔آج کے زمانے میں یہ بھی ضروری ہے کہ آمدن کم اور اخراجات زیادہ نہ ہوں۔
انہوں نے کہاکہ ہم محکمہ ڈاک کی عمارتوں کوبھی بہتر بنارہے ہیں ،خستہ حال ڈاک خانوں کی مرمت پر توجہ دی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ میں نے ہدایت کی ہے کہ جہاں بزنس زیادہ ہے وہاں سے زیادہ منافع جمع کرلیا جائے جسے کم بزنس والے ڈاک خانوں پر خرچ کیا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ ہم درست سمت کی جانب جارہے ہیں اور جلد مزید بہتری سامنے آئے گی۔