MPA Salman Naeem Multan - سپریم کورٹ نے پی پی 217 ملتان سے کامیاب ہونے والے سلمان نعیم کی نااہلی کا فیصلہ معطل کر دی

سپریم کورٹ نے ایم پی اے سلمان نعیم کی نااہلی کا فیصلہ مسترد کر دیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے پی پی 217 ملتان سے کامیاب ہونے والے سلمان نعیم کی نااہلی کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔سلمان نعیم نے دو شناختی کارڈ رکھنے پر الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل قرار دئیے جانے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔

یکم اکتوبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی پی 217 کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پی پی 217 ملتان سے کامیاب اُمیدوار محمد سلمان نعیم کو نااہل کردیا تھا۔الیکشن کمیشن نے پی پی 217 کا الیکشن کالعدم قرار دیا اور حلقےمیں دوبارہ انتخابات کا حکم دیا۔الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلہ میں بتایا کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق محمد سلمان کی عمر 25 سال سے کم ہے۔

اسی لیے محمد سلمان نعیم کی کامیابی کو کالعدم قرار دے کر حلقے میں دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ملتان کی پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 217 سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے اُمیدوار سلمان نعیم کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی۔ شاہ محمود قریشی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کامیاب رکن اسمبلی کے ایک شناختی کارڈ میں نام محمد سلمان اور دوسرے میں سلمان نعیم درج ہے۔
پی پی217 کے الیکشن میں دوسرے نمبر پر رہا۔ لیکن غلط بیانی کرنے پر سلمان نعیم کو نااہل قرار اور مجھے کامیاب قرار دیا جائے۔ سلمان نعیم کیخلاف آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت بھی کارروائی کی جائے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سلمان نعیم کیخلاف دائر درخواست سے متعلق بطور فریق اپنا جواب جمع کرایا ہے۔ درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سلمان نعیم نے اپنی اصل تاریخ پیدائش بھی چھپائی ہے۔

اصل شناختی کارڈ کے مطابق سلمان نعیم کی تاریخ پیدائش 28 جنوری 1994 ہے۔ رکن پنجاب اسمبلی سلمان نعیم کیخلاف شہری شعیب ہاشمی کی جانب سے بھی درخواست دی گئی ہے۔ اس پر رد عمل دیتے ہوئے محمد سلمان نے کہا کہ شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کے وائس چئیرمین ہیں اورانہوں نے اپنے ہی پارٹی کے ایم پی اے کے خلاف درخواست دائرکروا دی۔محمد سلمان کا مزید کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی میرے خلاف اپنی وزارت کو استعمال کر رہے ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہی پی ٹی آئی کا حصہ ہونے کے باوجود وہ کیوں میرے ساتھ یہ کر رہے ہیں۔شاید اس لیے کہ میں نے شاہ محمود قریشی کو وزارت اعلی کی دوڑ سے باہر کا تھا۔