cpo in bzumultan - زکریا یونیورسٹی میں طالب علم کا قتل ، سی پی او ملتان کیمپس پہنچ گئے

زکریا یونیورسٹی میں 14 گست کو قتل ہونے والے طالب علم کلیم اللہ کامعاملہ حل نہ ہوسکا، سی پی او ملتان اچانک کیمپس پہنچ گئے ۔

سی پی او ملتان ڈاکٹر منیر مسعود مارتھ نے بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان کا دورہ کیا، اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی کے ساتھ ان کے آفس میں ملاقات کی۔

ملاقات میں بہاء الدین زکریایونیورسٹی میں ہونے والے حالیہ واقعہ کے بارے میں تفصیل سے گفت گو کی گئی۔

اس موقعہ پر سیکورٹی چیف اور ریذیڈنٹ آفیسر نے سی پی او ملتان کو یونیورسٹی کی سیکورٹی کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔

سی پی او ملتان نے زکریایونیورسٹی کے تمام ہاسٹلز سمیت اہم مقامات پر سیکورٹی کو مزید سخت کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اور وائس چانسلر کو سیکورٹی کے حوالے سے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصو راکبر کنڈی نے سی پی او کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے تمام ہاسٹلوں میں رہائش پذیر طلباء کے ریکارڈ کی چھان بین کے احکامات جاری کیے ہیں، اور سیکورٹی حکام کو ہدایات دی ہیں کہ کسی بھی طور پر کوئی آئوٹ سائیڈر یونیورسٹی میں داخل نہ ہونے پائے۔
دوسری طرف پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرعلیم خان کی آڈیڈیو منظر عام پر آئی ہے، جس میں وہ سارے میں معاملے میں اعتماد میں نہ لینے پر احتجا ج کرتے نظر آتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وئس چانسلر اور رجسٹرار آفس کسی معاملے میں ان کو اعتماد میں نہیں لے رہا ہے اتنا بڑا واقعہ ہوگیا مگر ان کو کسی بات کا نہیں بتایا گیا ۔رجسٹرار کی کوشش ہے کہ وہ اصل صورتحال سے وائس چانسلر کو آگاہ نہ ہونے دے جو افسوس ناک ہے۔

علاوہ ازیں اسلامی جمعیت طلبا نے ایک مراسلہ ممبران سینڈیکیٹ کو ارسال کیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ 14اگست کو ہونے والے واقعہ کی چھان بین کےلئے تمام ممبران اپنا کردار ادا کریں ، اس واقعے پر یونیورسٹی کے سینئر اساتذہ کی انکوائری کمیٹی بنائی جائے ، اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے ، آر او ، سپرنٹنڈنٹ حمزہ ہال ڈاکٹر عارف کے علم میں تمام واقعات ہونے والے اویس جٹ کے خلاف کاررائی نہیں کی گئی اور اس کو تحفظ فراہم کیا گیا یہ برابر کے اس جرم میں شریک ہیں ان کو برطرف کیا جائے، یونیورسٹی کے اندر نشے کا کارروبار ہورہا ہے، جس میں انتظامیہ کے لوگ ملوث ہیں ،ان کے خلاف کاررائی کی جائے ۔

جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ 14باگست کے واقعہ کی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے اور کیس ڈسپلن کمیٹی کے سپرد کردیاگیا ہے جو آئندہ ہفتے سے کام شروع کرے گی