bzu allowance strike - زکریا یونیورسٹی : اساتذہ، افسر، اور ملازمین سراپا احتجاج ،حکومت کے خلاف ریلی

حکومت پنجاب کی جانب سے 25 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس سے یونیورسٹی ملازمین کو محروم رکھنے کے خلاف میں احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔

احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے فپواسا پنجاب کے صدر ڈاکٹر عبدالستار ملک نے کہا کہ فنانس ڈویژن اپنا گزشتہ نوٹیفکیشن واپس لے، انھوں نے وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ھمایوں کے اس بیان کی سختی سے تردید کی کہ یونیورسٹیاں اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیںیونیورسٹیوں کی نام نہاد خود مختاری پر مختلف حکومتی نوٹیفکیشنز کے ذریعے بار بار حملہ کیا جاتا ہے۔ فاٹا اور بلوچستان کے ہزاروں طلبا پنجاب حکومت کے احکامات پر یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں لیکن ان کی فیسوں اور ہوسٹل کے اخراجات کی مد میںزکریا یونیورسٹی کو آج تک ایک روپیہ نہیں دیا گیا۔ بلو پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو دی جانے والی مالی امداد گزشتہ پانچ سال سے منجمد ہے۔

اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ زکریا ملتان کے سیکریٹری ڈاکٹر خاور نوازش نے اپنے خطاب کہا کہ سرکاری یونیورسٹیاں غریبوں کے بچوں کو سستی تعلیم مہیا کرنے کے لیے قائم کی جاتی ہیں، اگر سرکاری یونیورسٹیاں بھی اپنی فیسیں پرائیویٹ سیکٹر کے برابر کر دیں تو غریب طالب علموں پر تعلیم کے دروازے بند ہو جائیں گے۔

آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر رانا جنگ شیر نے کہا کہ پنجاب حکومت یونیورسٹی ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک بند کرے اور انھیں فی الفور 25 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس دینے کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔

احتجاجی ریلی سے ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر ملک صفدر حسین نے کہا کہ حکومت کے غریب ملازمین کش اقدامات کے خلاف زکریا یونیورسٹی کے تین ہزار ایمپلائز اگلے ہفتے مرکزی قیادت کی کال پر لاہور دھرنے میں شرکت کریں گے، اور اپنا جائز حق 25 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس لے کر ہی واپس آئیں گے۔

احتجاجی ریلی میں جامعہ زکریا ملتان کے رجسٹرار صہیب راشد خان نے بھی شرکت کی ، احتجاجی ریلی میں یونیورسٹی کی تینوں ایسوسی ایشنز کی جوائنٹ کمیٹی کے عہدیداران سمیت ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔